زہے عزّت و اِعتلائے مُحَمَّد ﷺ

کہ ہے عرشِ حق زیرِپائے مُحَمَّد ﷺ

 

مکاں عرش اُن کا فلک فرش اُن کا

مَلَک خادمانِ سَرائے مُحَمَّد ﷺ

 

خدا کی رضا چاہتے ہیں دو عالَم

خدا چاہتا ہے رضائے مُحَمَّد ﷺ

 

عجب کیا اگر رحم فرما لے ہم پر

خدائے مُحَمَّد برائے مُحَمَّد ﷺ

 

مُحَمَّد برائے جنابِ اِلہٰی!

جنابِ الہٰی برائے مُحَمَّد ﷺ

 

بسی عطرِ محبوبی کبریا سے

عبائے مُحَمَّد قبائے مُحَمَّد ﷺ

 

بہم عہد باندھے ہیں وصلِ ابد کا

رضائے خدا اور رضائے مُحَمَّد ﷺ

 

دمِ نزع جاری ہو میری زباں پر

مُحَمَّد مُحَمَّد خدائے مُحَمَّد ﷺ

 

عصائے کلیم اَژدہائے غضب تھا

گِروں کا سَہارا عصائے مُحَمَّد ﷺ

 

میں قربان کیاپیاری پیاری ہے نسبت

یہ آنِ خدا وہ خدائے مُحَمَّد ﷺ

 

مُحَمَّد کا دم خاص بہرِ خدا ہے

سِوائے محمد برائے مُحَمَّد ﷺ

 

خدا اُن کو کِس پیار سے دیکھتا ہے

جو آنکھیں ہیں محو لِقائے مُحَمَّد ﷺ

 

جلو میں اِجابت خواصِی میں رحمت

بڑھی کس تُزُک سے دُعائے مُحَمَّد ﷺ

 

اِجابت نے جُھک کر گلے سے لگایا

بڑھی ناز سے جب دُعائے مُحَمَّد ﷺ

 

اِجابت کا سہرا عنایت کا جوڑا

دُلہن بن کے نِکلی دُعائے مُحَمَّد ﷺ

 

رضاپُل سے اب وجد کرتے گزریے

کہ ہے رَبِّ سَلِّمْ صَدائے مُحَمَّد ﷺ